عذاب جاں

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جان کا وبال، جی کا وبال، زندگی کے لیے مصیبت۔ "اس زمانے میں ہندوستان کے مختلف مذاہب کا پروپیگنڈا بھی عذاب جان ہو گیا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٢٦:٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عذاب' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگانے کے بعد فارسی سے ماخوذ اسم 'جاں' لگانے سے مرکب 'عذاب جاں' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٤٧ء کو "فرحت مضامین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جان کا وبال، جی کا وبال، زندگی کے لیے مصیبت۔ "اس زمانے میں ہندوستان کے مختلف مذاہب کا پروپیگنڈا بھی عذاب جان ہو گیا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٢٦:٣ )